تحقیقات کے مطابق معاشی دباؤآدمی کو کسی بھی پریشان صورت حال سے نمٹنے کی علمی و ذہنی صلاحیت سے محروم کردیتاہے۔ روزمرہ زندگی کےاخراجات کی تکمیل کی بھاگ دوڑ ،آدمی کےنظم و ضبط اورفکری صلاحیتوں کواس قدر کمزورکردیتی ہے کہ دیگر مسائل اس کےلیے غیر اہم ہوجاتے ہیں۔اکثرمعاشی بحران کی وجہ سے ہنگامی اوراضطراری حالات وجود میں آتے ہیں۔اضطراری حالت میں جوبھی راستہ نظرآتا ہےآدمی اسی پر گامزن ہوجاتاہے۔ دباؤ کے نتیجے میں نظم وضبط کو چھوڑ دیناایک فطری عمل ہے۔نظم و ضبط کی پابندی سے ہمارے اعصاب و حواس مضبوط ہوتے ہیں۔مضبوط اعصاب کے افرادمشکل حالات میں بھی نہ صرف اپنے ہوش و حواس کوقابو میں رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں بلکہ ان سےبخوبی باہر نکلناکا ہنربھی جانتے ہیں۔ہمیں نظم و ضبط کی پابندی کا اہتمام کرنا چاہیے تاکہ ہمارے اعصاب مضبوط ہوں اور مشکل ترین حالات میں بھی ہماری ذہنی صلاحیتیں ماؤف نہ ہوسکے۔ذہنی افلاس معاشی افلاس سےبھی زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ہمیشہ اس سے بچنے کی کوشش کرنا چاہیے۔

مالی دباؤ( کسی بھی قسم کےدباؤ )سے آدمی بہت جلدبے سکون ہوجاتا ہے۔غربت کی وجہ سے لالچ،فتنوں اور جعلسازیوں سے مقابلہ کرنا آدمی کے لیے مشکل ہوجاتا ہے۔مالی دباؤسے جہاں ذہنی دباؤ پیداہوتا ہےوہیں اس دباؤ کے زیر اثرآدمی غلط فیصلے کربیٹھتاہے ۔غلط فیصلے آدمی کوغربت سےکبھی باہرنکلنے نہیں دیتے ۔غلط فیصلوں سے مالی حالات ہی نہیں صحت روزگار اور مستقبل بھی متاثر ہوجاتا ہے۔ہماری مالی جدوجہد کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہماری قسمت خراب ہے۔اپنی ذمہ داریوں سے آگہی ہمیں، مسائل کی جڑتک پہنچ کر اسے حل کرنے ،حالات پر قابوپانے اور آگے بڑھنےکی صلاحیت عطا کرتی ہے۔

قرض لے کر کاروبارکرنا او ر اس پر مستزاد سودی قرض کے سہارے نیا کاروبار کرنا ایک بہت بڑی حماقت ہے۔آدمی روزانہ نہ چاہتے ہوئے بھی اس بوجھ کے نیچے دبتا چلاجاتا ہے۔ وہ پہلے کیا کرتا تھا اب کیا کررہا ہے اور آگے اسے کیا کرناہے ان چیزوں سے بےخبرصرف اس کے ذہن پر قرض ادائیگی کا بھوت سوار رہتا ہے۔ اسی ادھیڑبن میں آدمی اپنی ذمہ داریوں کو بہتر طریقہ سے ادانہیں کرپاتا اور اس کی کارکردگی متاثر ہونے لگتی ہے اگر وقت پر توجہ نہ دیں اور اپنی بچت کو بروئے کار نہ لائے تو پھر کاروبار بند ہونے سے نہیں بچ سکتا۔ان امور پر سنجیدگی سے غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ روپے کمانے سے سکون اصل نہیں ہوتا ۔سکون ،اطمینان اور خود اعتمادی کے لیے کچھ پس اندازی ضروری ہے جو برے وقتوں پر کام آسکے۔آدمی چند روپے ہی کیوں نہ کماتا ہو،اسی کے مطابق اسےاپنے خرچ کی منصوبہ بندی کرنی چاہیے ۔ اپنی کمائی سے کچھ نہ کچھ پس اندازی کے جتن کرنے چاہیے، تاکہ کسی بھی معاشی بحران اور دباؤ سے ممکنہ طورپربچاجاسکے۔ پس اندازی کا مطلب ہے کہ اپنے آپ کو ذہنی خلفشار اور خوف واضطراب سے محفوظ رکھنا۔ضروری اخراجات کے علاوہ کسی اور مد پر خرچ کرنا فضول خرچی اور اسراف کہلاتا ہے۔

اگر آپ مالی مسائل سے دوچار ہیں، تو جتنی جلدی ہو سکے قرض سے نکلنے کو اپنی ترجیحات میں سے اولین ترجیح بنائیں اور ایک ایساہنگامی فنڈ بنائیں جس میں آپ کےکم از کم تین سے چھ ماہ کے بنیادی اخراجات پورے ہوں۔یہ منصوبہ بندی آپ کی مالی صحت کو بہتر بنانے کے علاوہ، ڈرامائی طور پر آپ کے تناؤ کو کم کرے گا ۔جامع معاشی منصوبہ بندی آدمی کووقتی راحت کے حصول کے بجائےمستقبل کی تعمیر اور دائمی سکون و اطمینان کی فراہمی اور بہتر فیصلہ سازی میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔

Farooq Tahir, Hyderabad,India, farooqaims@gmail.com,

9700122826