مرکزی حکومت کی جانب سے اقلیتی طبقات سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں کے لیے ایک قومی اسکالرشپ بیگم حضرت محل کے نام سے شروع کی گئی ہے۔ اس اسکیم کوسابق میں مولانا آزاد اسکالرشپ برائے اقلیتی لڑکیوں کے نام سے جاناجاتا تھا۔یہ اسکالرشپ نویں جماعت سے بارہویں جماعت تک کی لڑکیوں کے لیے مختص کی گئی ہے۔ اس اسکیم کا مقصد اقلیتی طبقات کی لڑکیوں کوتعلیم حاصل کرنے کیلئے مالی امداد فراہم کرنا ہے۔

امیدواروں کا گزشتہ تعلیمی ریکارڈ کم از کم50 فیصد نشانات کا ہونا چاہیے اور ان کے والدین یا سرپرستوں کی سالانہ آمدنی دو لاکھ سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔ اسکالرشپ نویں اور دسویں جماعت میں زیرتعلیم طالبات کو فی کس5000 ہزار روپے اور گیارہویں و بارہویں میں پڑھ رہی طالبا ت کوفی کس6000 روپے ادا کیے جائیں گے۔

اسکالرشپ کیلئے انتخاب کا طریقہ کار:
اسکالرشپ کے لیے سرپرستوں کی سالانہ آمدنی اور حاصل کردہ نشانات کی بنیاد پر طالبہ کا انتخاب کیا جائے گا۔ اسکالرشپ کا کوٹہ ہر ریاست اور مرکزی زیر انتظام علاقے میں مردوم شماری 2011کے لحاظ سے اقلیتی طبقات کی آبادی کے تناسب سے متعین کیا جائے گا۔

اہلیت:
٭ اقلیتی طبقات جیسے مسلم، سکھ، عیسائی، بدھسٹ، پارسی اور جین سے تعلق رکھنے والی لڑکیاں ہی درخواست داخل کرنے کی اہل ہیں۔
٭ صرف وہی لڑکیاں درخواست داخل کر سکیں گی جو نویں تا بارہویں جماعت میں زیر تعلیم ہوں اور پچھلی کلاس کم ازکم 50فیصد نشانات سے کامیاب ہوں۔
٭ طالبات کے والدین اور سرپرستوں کی سالانہ آمدنی 2لاکھ روپیوں سے زائد نہ ہو۔
٭ طالبات کے والدین اور سرپرستوں کی سالانہ آمدنی کاسرٹیفکیٹ متعلقہ حکومت کے ذمہ دار ادارہ سے جاری کیا ہوا ہو۔
٭18سال مکمل کرنے والے طلبا ء کا خود تصدیق کردہ کمیونٹی سرٹیفکیٹ درکار ہے اور دیگر طلبا کاوالدین یا سرپرستوں کی جانب سے تصدیق کردہ کمیونٹی سرٹیفکیٹ درکارہے۔
٭ ایک طالبہ صرف ایک درخواست فارم داخل کر سکتی ہے۔ بہ صورت دیگر مسترد کر دی جائے گی۔
٭ اسکالرشپ کی منظوری کے بعد راست طور پر یہ رقم طالبہ کے اکاؤنٹ میں جمع کر دی جائے گی۔
٭ بیرونی ممالک میں تعلیم حاصل کرنے والی کسی بھی طالبہ کو یہ اسکالرشپ نہیں دی جائے گی۔
٭ اسکالرشپ کی منظوری میں ان طالبات کو ترجیح حاصل رہے گی جن کے والدین کی سالانہ آمدنی کم سے کم ہو۔
٭ ایسی طالبات جو کسی دوسری اسکالرشپ کی استفادہ کنندہ ہوں انہیں اس اسکالرشپ میں شامل نہیں کیا جائے گا۔
٭ ایک گھر یا خاندان سے زیادہ سے زیادہ 2 طالبات کو منظوری دی جائے گی۔

اسکالرشپ کی تجدید(رینول):
اسکالرشپ کی تجدید کیلئے کوئی بھی درخواست قبول نہیں کی جائے گی،چونکہ تمام کلاسس کیلئے درخواستوں کے ادخال کی سہولت دی گئی ہے۔اسکالرشپ سے استفادہ حاصل کرنے والے نویں سے بارہویں جماعت تک کی طالبات کو ہر کلاس کیلئے نئے سرے سے درخواست دینا ہوگا۔

ضروری ہدایتیں:
٭طلباء کو ڈراپ ڈاؤن کی فہرست سے میں اپنے بینک/برانچ کا نام احتیاط سے منتخب کرنا چاہیے۔
٭اس کے بعد مکمل اکاؤنٹ نمبر،صحیح طورپر درج کرنا ضروری ہے۔طلباء کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے اکاؤنٹ نمبر کی تصدیق اپنے متعلقہ بینک برانچ سے کروا ئیں، بشمول بینک اکاؤنٹ نمبر اور IFS کوڈ۔
٭اعلان سے دستبرداری (اگر طلباء کے ذریعہ درج کردہ بینک کی تفصیلات غلط پائی جاتی ہیں یا طالب علم کے بینک سے تصدیق شدہ نہیں ہوتی ہیں، تو اسکالرشپ کو منسوخ کردیا جائے گا/رقم منتقل نہیں کی جائے گی اگرچہ اسکالرشپ کے لئے درخواست منظور کی گئی ہے۔
٭بینک اکاؤنٹ ہولڈرز کو بینک سے اپنے (KYC) کی جانچ کرنا چاہیے اور اگر ضرورت ہو تو اسکالرشپ کی رقم کی منتقلی کے لیے KYC ضرور کرنا چاہیے۔
٭اسکالرشپ کی تقسیم تک بینک اکاؤنٹ کارکرد/فعال ہونا چاہیے۔
٭ بہترین بینکنگ کی سہولت اور مناسب IFSC کوڈ کے ساتھ بینک اکاؤنٹ کی ترجیح کسی بھی شیڈول بینک میں ہونا چاہیے۔
٭ بینک پاس بک کے پہلے صفحے کی کاپی (یہ اکاؤنٹ طالبہ کے نام پر سنگل ہو سکتا ہے یا طالبہ اور اس کے والد یا والدہ یا سرپرست کے نام پر جوائنٹ بھی ہو سکتا ہے۔
بیگم حضرت محل قومی اسکالرشپ کے لیے درخواست داخل کرنے کی آخری تاریخ 30 ستمبر2022 مقرر ہے۔

نیشنل اسکالرشپ پورٹل https://scholarships.gov.in/پر آن لائن درخواست داخل کی جا سکتی ہے۔