ہندوستانی عدلیہ کی 151 سالہ تاریخ میں مسلمانوں کی حصہ داری ہمیشہ ہی باعث تشویش رہی ہے لیکن تازہ اعداد و شمار نا قابل یقین ہیں کیوں کہ ملک کی سب سے بڑی عدالت یعنی سپریم کورٹ آف انڈیا (عدالت عظمی)اور مختلف ریاستوں میں قائم شدہ ہائی کورٹس(عدالت العالیہ)میں بھی مسلم ججس کی تعداد نہ کے برابر ہیں،جبکہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں مسلمانوں کی آبادی کا تناسب تقریب 16فیصدہے۔
ایک سروے کے مطابق نچلی عدالتوں میں بھی مسلم ججوں کا تناسب انتہائی کم ہے، کسی بھی شہر کی عدالت میں ایک یا دو مسلم جج سے زیادہ نہیں دیکھائی دیتے۔ ایسی بے شمارعدالتیں ہیں، جہاں سرے سے مسلم جج ہیں ہی نہیں۔ نچلی عدالتوں اوراعلی عدالتوں میں ججوں کے تناسب کا ڈاٹا جس طرح قابل تشویش ہے،اسی طرح مسلم وکلاء کی تعداد ایک فیصد سے بھی کم ہے،اسی لیے آج ملک میں مسلمانوں پرظلم وبربریت کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں اوردہشت گردی کے جھوٹے مقدمات میں پھنسایا جارہاہے۔ ایسے میں مسلم طلبہ وطالبات کو شعبہ قانون میں کیرئیر بنانابہت ضروری ہے۔مسلمان اپنی قوم کے بچوں کی ذہن سازی کرتے ہوئے انھیں اس شعبہ میں داخلہ دلوایں تاکہ عدلیہ میں مسلمانوں کا تناسب بڑھ سکے۔
روزگار کے مواقع:ایل ایل بی کی تعلیم کی تکمیل کے فوری بعد جونیرسیول جج کے امتحان میں شرکت کیلئے اہل ہیں۔شعبہ وکالت سے وابستہ ہوسکتے ہیں یاپھرملٹی نیشنل کارپوریٹ کمپنیوں،بینکوں میں لاء یالیگل آفیسرکے طور پرخدمات انجام دے سکتے ہیں۔گروپ ون اور ٹو کے علاوہ سب راجسٹرار کے پوسٹ کیلئے اہل ہیں۔ا س کے علاوہ گھر بیٹھے ڈرافٹنگ اور کونسلنگ کرکے بھی روپئے پیسے کماسکتے ہیں۔دوسری جانب ایل ایل ایمکی تکمیل کے بعد لاء کالجوں میں پڑھاسکتے ہیں۔
لا ء سیٹ: انٹرمیڈیٹ کی بنیادپر اس داخلہ امتحان کے ذریعہ5 سالہ انیٹی گریٹیڈیٹ لاء کو رس میں داخلہ دیا جاتا ہے،جس میں بی اے۔ایل ایل بی،بی کام۔ایل ایل بی،بی بی اے۔ایل ایل بی کورسس دستیاب ہیں۔تین سال کی تکمیل کے بعد بی۔اے لاء،بی کام لاء،بی بی اے لاء کی ڈگری دی جاتی ہے،جس کی بنیادپر طلبہ پی جی کورسس میں داخلہ لے سکتے ہیں، لیکن ایل ایل ایم اور وکالت کیلئے اہل نہیں ہوں گے۔وکالت کیلئے پورا5سالہ کورس مکمل کرنا ہوگا۔جبکہ ڈگری کے بعدتین سالہ لاء کورس(ایل ایل بی) میں داخلہ دیاجاتا ہے۔