درس و تدریس ایک شریفانہ اورمقدس پیشہ ہے،جسے تمام پیشوں کی ماں کہاجائے توغلط نہ ہوگاکہ ہرشعبۂ زندگی کے ماہرین،اساتذہ ہی توتیار کرتے ہیں۔نظام تدریس کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنی کہ بنی نوع انسانی کی ہے۔سلسلہ نبوت کے ساتھ ساتھ تعلیم و تدریس کا شعبہ بھی جاری رہا۔ اس باوقار پیشہ سے وابستہ حضرات، طلبہ کو تعلیم دے کر نہ صرف ان کا بلکہ اپنے ملک کا بھی مستقبل روشن کررہے ہیں اور ملک کو ترقی کی جانب گامزن کرنے میں اہم رول ادا کررہے ہیں۔معلمین آدمی کو انسان بناتے ہوئے اس کو معاشرے میں رہنے کے قابل بناتے ہیں۔لیکن فی زمانہ دیگر شعبوں کی طرح درس وتدریس کے پیشے سے وابستہ احباب میں محنت لگن، فرض شناسی اور دیانتداری کی بے پناہ کمی پائی جارہی ہے۔ اسکول، کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر اچھے اساتذہ نہ ہونے کے برابر ہیں۔آج ہمارے ملک میں تعلیمی اداروں کو بھی فرقہ پرستی کے اڈوں میں تبدیل کرنے کی سازش کی جاری ہے اور نصاب کی تدوین میں بھی فرقہ واریت کے عنصر کو شامل کیا جانے لگا ہے اور تاریخ کو مسخ کرکے پیش کرتے ہوئے نونہالوں اور نوجوانوں کے ذہنوں کوخراب کیا جارہا ہے اور انھیں مسلمانوں کی تئیں اکسایا جارہاہے۔ انگریزی اور دیگر زبانوں کی تاریخ کی کتابوں میں مسلم باشادہوں کے کردار کو منفی انداز میں پیش کیا جارہا ہے جس کی مثال (اورنگ زیب رحمتہ اللہ علیہ)کو کُریل کنگ (ظالم باشادہ)کہاجاتا ہے۔اسی طرح دیگر حکمرانوں اور عہدیداروں کو آبنائے وطن کے دشمنوں کی طرح پیش کیا جارہا ہے،جس سے غیرتوغیر ہماری قوم کے معمار بھی مسلم حکمرانوں کی صحیح تاریخ سے بے بہرہ ہوکر رہ گئے ہیں۔اس کی اہم وجہ دیگر زبانوں میں مسلم اساتذہ کی قلت ہے۔درس وتدریس یہ ایک ایساپیشہ ہے جس کے ذریعہ بچوں میں خود اعتمادی‘جذبہ تجسس‘ قوت فیصلہ اور قوت عمل، بھائی چارگی کا جذبہ پیدا کیا جاسکتا ہے اورانھیں سچا محب وطن بناسکتے ہیں۔اس کے علاوہ مذہب اسلام کا صحیح خاکہ، مسلم حکمرانوں اور مسلمانوں کے کارناموں سے واقف کرواسکتے ہیں۔
امیدواروں کو چاہئے کہ وہ اپنی خداداد صلاحیتوں اور انتھک کوششوں کے ذریعہ ان سرکاری عہدوں تک رسائی حاصل کرکے قوم وملت کو فائدہ پہنچائیں۔اس کے علاوہ ملک میں پرامن فضاء کو بحال کرنے میں اہم رول ادا کریں۔
عزیز نوجوانوں! اگر آپ بحیثیت اسسٹنٹ پروفیسرقومی یارستی سطح کی یونیورسٹیوں میں خدمت انجام دینے کے متمنی ہوں، آپ کے دل میں یہ خواہش ہو کہ میں یونیورسٹیوں میں درس دوں توآپ اپنے اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کی راہ پر لگ جائیں۔ جس کیلئے آپ کو پہلی منزل یعنی نیٹ (NET)قومی اہلیتی امتحان میں کامیابی حاصل کرناہوگا۔
نیٹ: نیشنل ٹسٹنگ ایجنسی(این ٹی اے)نے جونیئرریسرچ فیلوشپ (جے آرایف)اورلکچرر/ اسسٹنٹ پروفیسرکی اہلیت کیلئے مشترکہ سی ایس آئی آر۔یوجی سیٹ نیٹ2021جون سیشن کے امتحان کی تاریخ اعلان کیا ہے۔
آن لائن درخواست کے ادخال کاعمل 3ڈسمبر2021سے 2جنوری2022تک جاری رہے گا۔فیس کی ادائیگی کی قطعی تاریخ3جنوری2022ہے۔
فیس: نیٹ بینکنگ،ڈبیٹ کارڈ،کریڈیٹ کارڈ،یوپی آئی ویالٹ کے ذریعہ مشترکہ سی ایس آئی۔یوجی سی سیٹ2021کیلئے فیس ادا کی جائے۔
جنرل،جنرل۔ای ایس ڈبلیو زمروں کیلئے1000روپے، اوبی سی۔این سی ایل زمرہ کیلئے 500روپے،ایس سی،ایس ٹی زمروں کیلئے 250روپے،ٹرانسجینڈرکیلئے250روپے رکھی گئی ہے جبکہ جسمانی معذورین کو فیس کی ادائیگی سے مستثنٰی رکھا گیا ہے۔
5جنوری تا9جنوری2022تک آن لائن داخل کردہ درخواست میں تصحیح کیلئے مہلت دی جائے گی۔
کمپوٹربیسڈٹیسٹ(سی بی ٹی)کے ذریعہ لیاجائے گا۔جس میں معروضی سوالات پرمبنی دو سوالیہ پیپرس ہوں گے۔جن کو حل کرنے کیلئے3گھنٹے کا وقت دیاجائے گا۔
امتحان کی تاریخ: 29 جنوری،15فروری،18فروری 2022کوامتحانات منعقد کئے جائیں گے۔
امتحان صبح اور شام کی دو شفٹوں میں لیاجائے گا۔پہلی شفٹ صبح بجے سے دوپہر12بجے جبکہ دوسری شفٹ شام 3بجے تاشام6بجے تک ہوگی۔
مضامین: کیمیکل سائنسس،ارتھ،ایٹماس فیرک،اوشین اینڈ پلانیٹری سائنسس، لایف سائنسس،میتھیمیٹیکلسائنسس،فزیکل سائنسس کیلئے ہی درخواست داخل کی جاسکتی ہے۔
ٓآن لائن درخواست کے ادخال، تعلیمی قابلیت اور دیگر تفصیلات کیلئے ادارہ کی سرکاری ویب سائٹس ملاحظہ کیجئے۔
,https://csirnet.nta.nic.in
www.nta.ac.in