ضرورت اور آسائش کے فرق کو سمجھیں
فاروق طاہر،حیدرآباد،انڈیا۔farooqaims@gmail.com,9700122826
ْ ضروری اور غیر ضروری ٗ ٗ سےواقف ہونا ہم سبھی کے لیےاہم ہے ۔لوگوں کواکثر کہتے سنا ہے کہ فلاں ،فلاں چیز کے بغیروہ زندہ نہیں رہ سکتے۔زندگی میں بہت ساری چیزوں کو حاصل کرنے کے لیے ہم دن رات سخت محنت کرتے رہتے ہیں کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ ان چیزوں کے بغیر ہم خوش نہیں رہ سکتے۔حقیقت میں ان چند چیزوں کے بغیر بھی ہم بالکل اچھی اور بہتر زندگی گزارسکتے ہیں لیکن ان کے بغیر ہم نے کبھی جینے کی کوشش ہی نہیں کی۔ہمیں علم ہونا چاہیے کہ وہ کونسی چیزیں ہیں جن کے بغیر بھی ہم زندہ رہ سکتے ہیں۔ضرورت اور آسائش کے درمیان کے فرق کو ہمیں سمجھناچاہیے۔ ہم نے آسائش کو بھی ضرورت کے زمرے میں ڈال رکھا ہے۔ضرورت کے بغیر زندہ نہیں رہا جاسکتاجب کہ آسائش کے بغیر بھی زندگی گزاری جاسکتی ہے۔
ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم نےآسائشوں کو ضرورت بنا رکھا ہے۔ضرورتیں محدودہوتی ہیں جب کہ آسائشیں لامحدود۔کام کرنے والوں کے لیے وسائل کی تنگی اہمیت نہیں رکھتی۔کام کرنے والے کبھی وسائل کی تنگی کا شکوہ نہیں کرتے۔وسائل کی بہتات آدمی کو سست ،کاہل اور آسان پسند بنادیتی ہے۔وسائل کی بہتات مضبوط ڈسپلن (ضبط نفس) کی تشکیل میں ہمیشہ مانع رہی ہے۔
برگر ،پیزا اور میدے کی روٹیا ں کھانے والے آدمی کا وزن ،کیاخاک کم ہوگا! سال دوسال میں گاڑی بدلنے سے کیابچت ہوگی؟فضول چیزوں کو ضرورت بنا کر پیش کرنے سے فضول شئے،ضرورت نہیں بلکہ معاشی مصیبت بن کرابھرتی ہے۔انسانی توانائی ہویا پیسہ ہر دو کو بچانے کے لیےنظم و ضبط ضروری ہے ورنہ آدمی ان بنیادی ضرورتوں سے بھی محروم ہوجاتا ہے جواس کے لیے ضروری ہوتی ہیں۔
کبھی کبھار ان چیزوں کے بغیر بھی جینے کی کوشش کریں جسے آپ ْ ْضروری ٗ ٗسمجھتے ہیں۔اس طریقے پرعمل کرنے سے آپ کو کئی فائدے حاصل ہوں گے۔
پہلا فائدہ یہ ہوگا کہ جب آپ خود کورضاکارانہ طور پرغیر آرام دہ صورت حال سےدوچار کریں گے توآپ کے آرام و تعش پسندی( کفرٹ زون )کے تصور میں تبدیلی واقع ہوگی اور آپ آرام پسندی کے دائرے سے باہر نکل آئیں گے ۔یہ تبدیلی مشکلوں سے ہم آہنگی پیدا کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔آدمی کے اندر جب یہ لچک و تبدیلی پیدا ہوتی ہے تووہ مشکلوں اور وسائل کی تنگی کا شکوہ کرنے کے بجائے اپنے زور بازو پر بھروسہ کرنے لگتا ہے۔
دوسرا فائدہ یہ ہوگا کہ ہمیں ضروری اور غیر ضروری کا فرق معلوم ہوجائےگا۔ہم سوچیں گے کہ کیا واقعی ہمیں زندگی میں ان چیزوں کی ضرورت ہے بھی کہ نہیں؟واقعی جن چیزوں کو ہم نے اہم سمجھا تھا وہ اتنے اہم ہیں بھی کہ نہیں؟یہ سوچ،ہماری زندگی سے غیر اہم چیزوں کو نکال پھینکنے میں مددگارثابت ہوتی ہے ۔اس تبدیلی سے ہم جو چیز اہم ہے اس پر توجہ مرکوز کرنے لگتے ہیں ۔غیر اہم اشیاء سے کنارہ کشی ،اضافی وقت توانائی اور وسائل کی فراہمی کا زریعہ بن جاتی ہے۔
آخری اور سب سے اہم فائدہ یہ ہوگا کہ ہمارے اندر قناعت کا جذبہ پیدا ہوگا۔کم میں بھی خوش رہیں گے۔کبھی کوئی محرومی آپ کو غمگین نہیں کرے گی۔محرومیت کے احساس سے نجات، کامیابی کا نقطہ آغاز ہے۔